Posts

Sifaat e Aarida

صفاتِ عارضہ: صفاتِ لازمہ اور صفاتِ عارضہ میں فرق: صفاتِ لازمہ: وہ صفات جو حرف میں ہمیشہ پائی جاتی ہیں۔ چاہے حرف ملا کر پڑھا جائے یا اکیلا، قواعد کے ساتھ پڑھا جائے یا اس پر وقف کیا جائے۔ صفاتِ لازمہ اس میں ہمیشہ پائی جائیں گی۔ مثلاً حروفِ مستعلیہ ہمیشہ پُر پڑھے جائیں گے، حروف ِ صفیریہ میں ہمیشہ سیٹی کی آواز آئے گی وغیرہ۔ صفاتِ عارضہ: صفاتِ عارضہ وہ صفات ہیں جو حرف میں ہمیشہ نہیں پائی جائیں گی بلکہ کسی خاص کیفیت میں حرف میں پائی جائیں گی اور جب وہ کیفیت یا حالت نہیں رہے گی تو صفاتِ عارضہ بھی نہیں پڑھی جائیں گی۔

Ghunna kay Maratib

غنّہ کے مراتب:                 غنّہ کے چار مراتب ہیں۔ اکمل نّ ،   مّ ،   ادغامِ حقیقی،   ادغامِ شفوی۔ کامل اخفاءِ حقیقی،   اخفاءِ شفوی،   اقلاب۔ ناقص اظہارِ حلقی،   اظہارِ شفوی۔ انقص نون متحرک،   میم متحرک۔

Meem Sakin ky Qawaid

میم ساکن کے قواعد: میم ساکن سے تین قواعد ہیں۔                      1۔ ادغامِ شفوی۔                        2۔ اخفاءِ شفوی۔                          3۔ اظہارِ شفوی۔ 1 ۔ ادغامِ شفوی: حرف:    " م " قاعدہ:    " م ساکن"کے بعد اگر"   م   متحرک"آجائے تو "   م ساکن "کی آواز کو "م   متحرک "سے ملا کر پڑھیں گے۔ مثالیں :     فِىْ قُلُوْبِـهِـم ْ مّ َرَضٌ ،   اَضَآءَ لَـهُـم ْ مَّ شَوْا فِيْهِ ۔ 2 ۔ اخفاءِ شفوی: حرف : " ب " قاعدہ :     " م ساکن"کے بعد اگر"   ب   "آجائے تو "   م ساکن "کی آواز کو "ب "سے بدل کے پڑھیں گے۔ مثالیں :     وَمَا هُـمْ بِم ُؤْمِنِيْنَ ، اَنْب...

Noon Sakin aur Tanween k Qawaid

نون ساکن اور تنوین کے قواعد: نون ساکن اور تنوین کے چار قواعد ہیں۔ 1۔   اظہارِ حلقی۔                          2۔ ادغام ۔                                 3۔ اقلاب۔                               4۔ اخفاء حقیقی۔ 1۔   اظہارِ حلقی:   لغوی معنی: " ظاہر کرنا "۔ اصطلاحی معنی :   نْ اور تنوین کی آواز کو   اس طرح ظاہر کرنا کہ بغیر غنّہ کے ادا ہو۔ حروف:   "ء ،    ہ ،   ع ،   ح ،   غ ،   خ "۔ قاعدہ :     نْ اور تنوین کے بعد اگر حرفِ   حلقی   میں سے کوئی بھی حرف آجائے تو   نْ اور تنوین ک...

Noon Sakin aur Tanween main Farq

نون ساکن اور تنوین: نون ساکن اور نون تنوین میں فرق: نون ساکن (نْ) نون تنوین ( دو زبر ، دو زیر، دو پیش) نْ لکھا ہوا ہوتا ہے۔ ن تنوین لکھا ہوا نہیں ہوتاصرف پڑھا جاتا ہے۔ نْ   ہمیشہ کلمہ کے درمیان اور آخر میں آتا ہے۔ ن تنوین ہمیشہ کلمہ کے آخر میں آتا ہے۔ نْ اسم، فعل اور حرف تینوں میں آتا ہے۔ ن تنوین صرف اسم میں آتا ہے۔ نْ   وقف اور وصل دونوں صورتوں میں پڑھا جاتا ہے۔ ن تنوین صرف وصل میں پڑھا جاتا ہے۔

Sifaat ul Huroof

صفات الحروف: لغوی معنی:   صفت کے لغوی معنی " حالت" یا " کیفیت" ہیں۔ اصطلاحی معنی: اصطلاح میں صفت سے مراد ہے " مخرج سے نکلتے وقت حرف کی حالت یا کیفیت" ۔ اقسام:   صفات   دو طرح کی ہوتی ہیں۔                1۔ صفات ِ لازمہ ۔               2۔   صفات ِ عارضہ۔ 1۔ صفات ِ لازمہ: صفات ِ لازمہ کی دو اقسام ہیں۔       ا۔ صفات ِ لازمہ متضادہ۔               ب۔ صفات ِ لازمہ غیر متضادہ۔ ا۔ صفات ِ لازمہ متضادہ: صفات ِ لازمہ متضادہ پانچ ہیں اور یہ جوڑوں کی صورت میں پائی جاتی ہیں۔ ١۔   ہمس / جھر : (سانس) ۔ ہمس:   لغوی معنی :   " پستی"۔ اصطلاحی معنی:   مخرج سے نکلتے وقت آواز اس قدر پستی سے آئے کہ سانس جاری ہو جائے۔ حروف:   صفت ہمس   دس (10) حروف میں پائی جاتی ہے۔ "ف،   ح،   ث، ہ،   ش، خ، ...